ماما گیری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عورت کی کھانا پکانے کی ملازمت، باورچن کا پیشہ۔ "میرے ماموں کے گھر ماما گیری کے واسطے آئی ایک روپیہ مہینہ اور روٹی پر نوکر ہوئی۔"      ( ١٩٦٢ء، بیلہ میں میلہ، ٨٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ماما' کے بعد فارسی مصدر 'گرفتن' سے صیغہ امر 'گیر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ ١٨٦٨ء، کو "مراۃ العروس" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عورت کی کھانا پکانے کی ملازمت، باورچن کا پیشہ۔ "میرے ماموں کے گھر ماما گیری کے واسطے آئی ایک روپیہ مہینہ اور روٹی پر نوکر ہوئی۔"      ( ١٩٦٢ء، بیلہ میں میلہ، ٨٠ )

جنس: مؤنث